فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا۔ مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔ اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ لیکن غرق ہونے کے لیے خود چل کر دریا تک گیا تھا۔ خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنادیا۔ شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔ مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔ نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک مچھر نے ختم کر دیا۔ چنگیز خان بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا ۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا قاتل تھا اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا گیارہ فیصد حصہ ختم ہوگیا تھا۔ چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا اُن کا قتلِ عام کرتا چنگیز...