Posts

Image
  فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونے کا کوئی ارادہ تو  نہیں تھا۔ مگر اُسے ڈوبنا پڑا۔ اُس نے اپنے غلاموں سے اپنے ارد گرد قلعے کی دیواریں اونچی  اور نہایت مضبوط بنوائیں تاکہ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ لیکن غرق ہونے کے لیے خود چل کر دریا تک گیا تھا۔ خُدائی کا دعویدار بھی رہا لیکن سچے خُدا نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان  بنادیا۔ شداد اگلے کروڑوں سال اپنی جنت میں مزے اُڑانا چاہتا تھا۔   مگر اُس کے دروازے پر پہنچتے ہی مر گیا۔   نمرود کی پلاننگ بھی کافی لمبی تھیں۔ اُس کی صدیوں حکومت کرنے کی خواہش کو ایک مچھر نے ختم کر دیا۔ چنگیز خان  بھی اپنے زمانے کی سب سے بڑی سلطنت کا مالک تھا ۔ طاقت اور اختیار کے نشے میں ایسا مست کہ کہا جاتا ہے کہ چالیس ملین لوگوں کا  قاتل تھا  اور اِس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اُس وقت دنیا کی آبادی کا  گیارہ فیصد حصہ  ختم ہوگیا تھا۔ چنگیز خان ظلم و بربریت کی نشانی کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔  گھوڑے پر بیٹھ کر علاقوں کے علاقے فتح کرتا اور لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتا اُن کا قتلِ  عام کرتا چنگیز...

سچ کا سفر

Image
سقراط کو زہر کا پیالہ پیتا دیکھ کر ایتھنز کے حکمرانوں کو سُکھ کا سانس آیا کہ اُن کی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے والے فتنے کا اختتام ہوا۔ اُس وقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یونانی اشرافیہ جیت گئ سقراط کی دانش وری  ہار گئ۔ وقت گزر گیا۔ اسکاٹ لینڈ کی جنگ، آزادی لڑنے والے  ولیم والس کو  انگلینڈ کے  بادشاہ ایڈورڈ اوّل نے گرفتار کیا تو اُس پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ اُسے بے لباس کرکے گھوڑں کے سموں کے ساتھ باندھ کر  لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد  پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ اُس وقت کا بادشاہ جیت گیا ولیم ہار گیا وقت گزر گیا۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گِرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی۔  چرچ  نے گلیلیو کو  غیر معینہ قید کی سزا سنائی۔ یہ سزا ١٦٣٣ میں سنائی گئ ۔گلیلیو کو گھر میں قید رکھا اور وہیں ١٦٤٢ میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس وقت کے پادری جیت گئے سائنس ہار گئ وقت گزر گیا۔ روم کے جیو ردانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا۔ برونو نے ...

فرسودہ نظام

Image
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو میں بیزار ہوں ہر اُس اقدار سے ہر اس تہذیب سے ہر اس روایت,  رسم,  ریت ,  رواج سےجو کسی ایک کو دوسرے پر اتنا اختیار دے  کہ وہ سامنے والے کی زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ مجھے نفرت ہے ہر اُس  مرد سے جو  عورت کو بس سزا دینا اپنا اختیار اور حق سجھتا ہے۔  بلکہ اُس کا فرض تو عورت کی حفاظت کرنا ہے۔ عورت نے  مرد کے مذاج کے خلاف کچھ کیا ہے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے اُس سے تو اسے سزا دی جائے۔  پھر وہ سزا کسی بھی قسم کی کیوں نہ ہو۔ نہ نہ۔ ایسی کوئی اجازت کسی کو کسی نے نہیں دی نہ دین نے نہ  شریعت نے نہ ریاست نے۔ انسان کی جان پر صرف  و صرف اگر حق ہے تو اللہ باری تعالی کا ہے  اول تا آخر۔ اسلام نے جو رشتے بنائے وہ ایک دوسرے سے حقوق کی بنیاد پر جُڑتے ہیں نہ کہ دھونس اور جبر کی بنیاد پر۔  میں تمھارا مالک ہوں لہذا میں تھاری جان لے سکتا ہوں۔   ❌❌❌❌❌❌❌❌❌ نہیں ۔۔۔  ظلم کے لیے کوئی بھی وجہ قابلِ قبول نہیں اسلام  صرف ہمیں رشتوں کا احترام سکھاتا ہے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ...

Youm e Taqbeer

Image
  اس ملک کا ایک ایک فرد شکر گزار ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا کہ جنھوں نے اپنی ہمت سے اور محنت سے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر دنیا میں سر اُٹھا کر جینے کے قابل بنایا۔  بیشک ڈاکٹر صاحب محسنِ پاکستان ہیں۔  ہم سب گواہ ہیں اس بات کے کہ پانچ اور چھ مئی 2025 کی درمیانی شب ہمارے دشمن پڑوسی نے کس قدر بزدلی کا مظاہرہ کیا اور ہمارے ملک پر میلی آنکھ ڈالنے کی جرات کی۔ لیکن پاکستانی افواج نے دشمن کو اپنی طاقت کا مکمل اور بہترین مظاہرہ کروایا۔  الحمد لله اور اس جوابی کاروائی کے ذریعے پاکستان نے صرف اپنے ایک دشمن بھارت کو ہی نہیں بلکہ  دنیا  کے تمام چُھپے اور ظاہری سب دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ ہم کمزور نہیں۔  ہم ڈرنےوالے نہیں ۔ ہم اب جُھکنے والے نہیں۔  کیوں کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور ہم ہر طرح کے سامانِ جنگ سے لیس ہیں ۔ الحمد لله  مادرِ ملت اور اُس کے باسیوں کی حفاظت کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں۔  اب ہماری طرف غلط نظر اُٹھانے کی جرات بھی نہ کی جائے ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔ ہم ہر گھڑی تیار ہر لمحہ بیدار ہیں اس پاک سر زمین کے چپے چپے کی حفاظت کرنے کے لیے۔...

21st Century اکیسوی صدی

Image
!!یہ اکیسوی صدی ہے دوست  زرا سنبھل کے۔۔ دنیا کی ابتداء سے لے کر ابھی تک کے بد ترین وقت میں خوش آمدید۔۔ خوش آمدید اُس اکیسیوی صدی میں کہ جس کا ذکر ہمیشہ ڈرانے والے انداز میں ہی کیا جاتا ہے۔ اب عزت دار  با عقیدہ اور غیرت مند افراد آپ کو چُھپے ہوئے ملیں گے  جو زیادہ تر گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں گے,  لوگوں کے شر سے خود کو بچاتے ہوئے۔ یوں سمجھ لیں کہ جیسے  وہ دہکتا انگارہ ہتھیلی پر رکھے بیٹھے ہوں۔  جبکہ اُن کے برعکس بے شرم بے حیا اور ذلیل لوگ معاشرے میں مقبول اور پسندیدہ بنیں  دکھائی دیں گے۔ پچپن ساٹھ سال کا آدمی جوانی کے نشے میں مست ملے گا جب کہ  پچیس سال کا نوجوان آپ کو زندگی سے تنگ دُنیا سے بیزار موت کا منتظر ملے گا۔ وہ جن کے کھیلنے کودنے کے دن بھی ختم نہیں  ہوئے وہ آپ کو  ڈپریشن اور اسٹریس پر سرِ عام  تبصرہ کرتے نظر آئیں گے۔ ننھی مُنّی بچیاں  محبوب کے دھوکہ دینے اور چھوڑ جانے پر  آپ کو غم زدہ ملیں گی۔ اصول پسند حق بات کرنے والے اور غیرت مند افراد کو دقیانوسی اور تنگ نظر سمجھا جارہا ہے۔  جبکہ بے راہ روی, فحاشی و عریان...

آپریشن بُنیان مرصوص۔ Bunyaan Marsoos

Image
اب دنیا میں پاکستان ایک الگ  حیثیت  سے ابھرے گا"۔" !ان شاء اللہ بہادری و شجاعت بہادر اور نڈر قوم کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان عرصہِ دراز سے مختلف مسائل میں گھرا تھا۔ معاشی  بحران ہو  یاں امن و امان کی صورتِ حال۔ دشمن نے بھی  ہمیں اندرونی بیرونی مسائل اور لڑائیوں میں الجھائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔  پاکستان کا وجود دشمنوں کی آنکھ میں کس طرح کھلتا ہے اِس بات سے ہم سب واقف ہیں اور  ہم خود  بھی عرصہ دراز سے انڈیا کی مکاری و عیاری دیکھتے آرہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس جنگ کے دوران بھی  ہماری عوام کو بہ خوبی ہوگیا ہوگا کہ کس طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے  کون کون سے  ممالک  بھارت کے ساتھ کھڑے تھے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جب اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو تو دشمن آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ آج دنیا نے پاکستان کی افواج کی بالخصوص ہماری پاک فضائیہ کی قابلیت کے نظارے دیکھے۔ کہ کس طرح انھوں نے پاکستان کا دفاع کیا۔اپنا نقصان روک کر دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔  یہ محض جنگ کے چند دن نہیں  تھے بلکہ یہ اِس دور کی بہت بہت بہت بڑی ض...

2024 ایک جھلک میں۔

Image
دو ہزار چوبیس بھی اپنے اختتام کو پہنچا یہ سال سیاسی سماجی معاشی اعتبار سے کیسا گزرا۔ اس سال بھی اسرائیل کی جانب سے مظلوم ف ل س طینیوں پر ظلم و بربریت جارہی رہی۔ اسرائیلی فوج فلسطین کے مختلف علاقوں پر مسلسل حملے کرتی رہی جس کے نتیجے میں  تقریباََ 43 ہزار فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی  اور ملبوں تلے لاپتا افراد کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔  رہائشی عمارات اسکول  کالج دفاتر  کے ساتھ ہسپتالوں پر بھی شدید بمباری کی گئ۔ غرض یہ کہ عام شہری اور جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں کیا جا رہا جو کہ سرہاََ فلسطینیوں کی نسل کشی کے مترادف ہے۔  اسرائیل کی جانب سے امدادی کاروائیوں میں رکاوٹیں مسلسل جاری ہیں۔ غرض ہر قسم کی ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے رکھا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے فسلطینیوں پر پچیس ہزار ٹن گولہ بارود  استعمال کیا گیا  ہے۔ اس زہریلے مواد گیس  سے غزہ کی فضاء زہر آلود ہے اور اِس غیر انسانی سلوک کے خطرناک اثرات آئندہ آنے والی نسلوں تک کے لیے خطرے کے باعث ہوں گے۔  اسرائیل کی جانب سے نہ صرف امدادی کاروائیوں میں رکاوٹیں ڈالی جاری ہیں بلکہ سوشل میڈی...